بس کا سفر
میرانام کمال ہے اور میری عمر 38 سال کے قریب ہے میرا تعلق جڑانوالہ شہر سے ہے اور میں اپنی بیوی راحیلہ اور تین بچوں کے ساتھ لاہور میں رہتا ہوں راحیلہ کی عمر 30 سال کے قریب ہے اس کا قد چارفٹ سات انچ اور جسم تھوڑا سا فربہ ہے مگر سرخی مائل سفید رنگ اور تیکھے نین نقش کی وجہ سے وہ بہت خوب صورت دکھائی دیتی ہے
i | Beautiful Girl |
Click
اس کے کولہے باہر کو نکلے ہوئے ہیں جو اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیںدیکھنے والا کوئی بھی شخص یہ اندازہ نہیں کرسکتا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہے راحیلہ طبیعت کے لحاظ سے شرمیلی اور کم گو ہے جبکہ بیڈ پر بہت ہی گرم ہے میں اور راحیلہ دونوں لاہور میں سرکاری ملازمت کرتے ہیں جبکہ ہمارے بچے مقامی سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں یہ گذشتہ سال کا واقعہ ہے جب بڑی عید کی آمد آمد تھی اور ہم لوگوں نے ماں باپ کے ساتھ عید منانے کا فیصلہ کیا اور بچوں کو میں نے اپنے بھائی کے ساتھ جڑانوالہ روانہ کردیا جبکہ میں اور راحیلہ نے دفتر سے چھٹیاں نہ ملنے کی وجہ سے عید سے ایک روز پہلے جڑانوالہ جانے کا فیصلہ


Click
اس کے کولہے باہر کو نکلے ہوئے ہیں جو اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیںدیکھنے والا کوئی بھی شخص یہ اندازہ نہیں کرسکتا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہے راحیلہ طبیعت کے لحاظ سے شرمیلی اور کم گو ہے جبکہ بیڈ پر بہت ہی گرم ہے میں اور راحیلہ دونوں لاہور میں سرکاری ملازمت کرتے ہیں جبکہ ہمارے بچے مقامی سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں یہ گذشتہ سال کا واقعہ ہے جب بڑی عید کی آمد آمد تھی اور ہم لوگوں نے ماں باپ کے ساتھ عید منانے کا فیصلہ کیا اور بچوں کو میں نے اپنے بھائی کے ساتھ جڑانوالہ روانہ کردیا جبکہ میں اور راحیلہ نے دفتر سے چھٹیاں نہ ملنے کی وجہ سے عید سے ایک روز پہلے جڑانوالہ جانے کا فیصلہ


i |
کیا عید سے ایک روز پہلے ہم لوگ دوپہر کے بعد گھر سے نکلے اور لاری اڈا پہنچ گئے جہاں اے سی بسوںمیں ایڈوانس بکنگ ہوچکی تھی جس کا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہوگا ورنہ میں بھی ایڈوانس بکنگ کروالیتا خیر سیٹیں نہ ملنے کی وجہ سے ہم لوگوں نے نان اے سی بس میں جانے کا فیصلہ کیا اور اس کے سٹاپ پر پہنچ گئے جہاں پر بہت ہی رش تھا ایسا لگ رہا تھا کہ سارا لاہور ہی جڑانوالہ جانے کے لئے یہاں امڈآیا ہے سٹاپ پر راحیلہ کے علاوہ کوئی بھی خاتون نہیں تھی تمام مسافر مرد تھے جس کو دیکھ کر میں اور ر احیلہ دونوں پریشان ہوگئے کہ اس رش میں کیسے سفر کریں گے خیر اب کیا ہوسکتا تھا ہمیں ہر صورت جانا تھا
i
i
کمال ہم لوگ اس رش میں کیسے جائیں گے‘ راحیلہ نے مجھ سے فکر مند ہوکر پوچھاروحی(راحلیہ کا نک نیم) ہمیں اسی رش میں ہی جانا پڑے گا ہمارے پاس اور کوئی چوائس نہیںہے‘ میں نے اس کو جواب دیاکافی دیر انتظار کے بعد بس سٹاپ پر آگئی ابھی بس سٹاپ پر رکی ہی نہیں تھی کہ لوگ اس کی طرف لپک پڑے ہم دونوں بھی بس کی طرف ہوئے میں نے اپنی بیوی کو بس میں سوار کرایا اور خود بھی دروازے پر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا اسی اثناءمیں باہر سے مسافروں کا ایک دھکا لگا اور ہم دونوں بس کے اندر پہنچ گئے اس دھکے کے ساتھ ہی میں اور روحی
کمال ہم لوگ اس رش میں کیسے جائیں گے‘ راحیلہ نے مجھ سے فکر مند ہوکر پوچھا
روحی(راحلیہ کا نک نیم) ہمیں اسی رش میں ہی جانا پڑے گا ہمارے پاس اور کوئی چوائس نہیںہے‘ میں نے اس کو جواب دیا
کافی دیر انتظار کے بعد بس سٹاپ پر آگئی ابھی بس سٹاپ پر رکی ہی نہیں تھی کہ لوگ اس کی طرف لپک پڑے ہم دونوں بھی بس کی طرف ہوئے میں نے اپنی بیوی کو بس میں سوار کرایا اور خود بھی دروازے پر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا اسی اثناءمیں باہر سے مسافروں کا ایک دھکا لگا اور ہم دونوں بس کے اندر پہنچ گئے اس دھکے کے ساتھ ہی میں اور روحی
i
i
علیحدہ علیحدہ ہوگئے چند سیکنڈ میں ہی بس فل ہوگئی اب بس میں کسی کے پیر رکھنے کی بھی گنجائش نہ تھی میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو راحیلہ بس کے درمیان میں ایک ہاتھ چھت کے ساتھ لگے ہینڈل کو پکڑے کھڑی تھی جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ سامنے والی سیٹ کی پشت پر تھا اس نے دونوں ہاتھوں سے سیٹ اور اوپر والے ہینڈل کو پکڑ رکھا تھا جبکہ میں اس سے کافی دور بس کے عقبی حصہ میں تھا جہاں سے میں نے حرکت کرکے روحی کے پاس پہنچنے کی کوشش کی لیکن میرے آگے کھڑے
i
i
مسافر چلانے لگے جس پر میں وہیں کھڑا ہوگیا میں نے نوٹ کیا کہ روحی کے پیچھے ایک بھاری بھر کم شخص کھڑا ہوا ہے جس کا قد لمبا اور کپڑے میلے کچیلے تھے اس نے ڈریس پینٹ اور شرٹ پہن رکھی تھی روحی کا سر اس کی چھاتی پر آرہا تھا اس شخص نے روحی کے ہاتھ کے پاس ہی ایک ہاتھ سے چھت والے ہینڈل کو پکڑا ہوا تھا جبکہ روحی کے اگلی سائیڈ پر بھی ایک شخص کھڑا ہوا تھا جو دیکھنے میں سلجھا ہوا لگ رہا تھا ان دونوں کے درمیان میں کھڑی روحی بچی لگ رہی تھی میں نے ایک بار پھر سے حرکت کرکے روحی کے پاس پہنچنے کی کوشش کی لیکن اپنی جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہ جاسکا بلکہ الٹا پاس کھڑے مسافروں کی بدتمیزی کا
i
IMPORTANT NOTE
i
IMPORTANT NOTE
سامنا کرنا پڑا ‘ میں نوٹ کررہا تھا کہ روحی کے پیچھے کھڑا ہوا شخص روحی کے مموں کی طرف غور سے دیکھ رہا ہے مجھے اپنی ”پراپرٹی“ کی طرف گھورنے پر اس شخص پر بہت غصہ آرہا تھا لیکن میں کچھ بھی نہیں کرسکااور چپ چاپ وہیں کھڑا رہااور بے بسی کی حالت میں اپنی بیوی کی طرف دیکھتار ہاتھوڑی دیر بعد ایک جھٹکے کے ساتھ ہی بس چل پڑی اور پیچھے کھڑا ہوا شخص روحی کے بالکل ساتھ لگ گیا روحی نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا کیوں کہ بس میں رش کی وجہ سے ہر شخص کی یہی حالت تھی سڑک کی حالت بہت خراب تھی اور اس کے علاوہ بس بھی کوئی انگریز کے دور کی کھٹارہ حالت میں تھی جو عید کے رش کی وجہ سے سڑک پر آگئی بس سڑک پر جھٹکے لے کر چل رہی تھی ہر جھٹکے کے ساتھ پیچھے کھڑا ہوا شخص روحی کے ساتھ پیچھے سے مزید جڑنے کی کوشش کررہا تھا اور اس کے ساتھ رگڑ کھارہا تھا جبکہ رش کی وجہ سے روحی کو معلوم
A6












